بنگلورو:19/جولائی (ایس او نیوز) بی جے پی کے کارکنوں نے پرپنا اگرہا سنٹرل جیل میں بے قاعدگیوں ' دکھشن کنڑ ضلع میں سیاسی قتل کی وارداتوں کے معاملات این آئی اے کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ بی جے پی کے ریاستی صدربی یس یڈ یورپا کی زیر قیادت یہ احتجاج کیا گیا۔احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے یڈ یورپا نے کہا کہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بدترین ہوتی جارہی ہے اوردکھشن کنڑ ضلع میں سیاسی قتل کی وارداتیں عام ہوچکی ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (محابس) ڈی روپا کے تبادلے پر سوال اٹھایا، جنہوں نے پرپنا اگرہا سنٹرل جیل میں بے قاعدگیوں اور رشوت کو بے نقاب کیا تھا۔انہو ں نے کہا '' میں سمجھتا ہوں کہ حکومت ایماندار پولیس افسروں کے تبادلے کے ذریعہ رشوت خوری کا طریقہ کار اور بے قاعدگیاں اس سنٹرل جیل میں جاری رکھنا چاہتی ہے جو غیر قانونی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے آگے آتے ہیں۔ اس طرح چیف منسٹر نے یہ پیام دیا ہے کہ ریاست میں ایماندار پولیس افسروں کا کوئی مقام نہیں ہے۔ انہو ں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان بے قاعدگیوں کی ہائی کورٹ کے جج کے ذریعہ تحقیقات کروائے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے دکھشن کنڑ ضلع میں سیاسی قتل کی وارداتوں کے لئے ذمہ دار افراد کے خلاف معاملہ درج کرنے کا اپنا کام مناسب طور پر نہیں کیا ہے۔ میں نے منگل کو نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے خواہش کی کہ منگلورو میں این آئی اے کا دفتر قائم کیا جائے۔انہوں نے اس احتجاجی پروگرام میں بی جے پی کے کارکنوں کی کم تعداد میں شرکت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے منتظمین کو مشورہ دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مستقبل میں جب کبھی بھی ایسے پروگرام منعقدکئے جائیں بی جے پی کے کارکن کثیر تعداد میں اس میں شرکت کریں۔ قبل ازیں بی جے پی مہیلا مورچہ کی صدر بھارتیہ شٹی نے ریاست میں رشوت خوری اور سیاسی قتل کی وارداتوں کے روک تھام کیلئے جامع اقدامات نہ کرنے پر ریاستی حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا۔